شمارهٔ 4
Toggle stanza 1زان پیش که نُه خیمهٔ افلاک زدند
11
زان پیش که نُه خیمهٔ افلاک زدند
وین خیمه به گرد تودهٔ خاک زدند
22
در عالم جان برابرش بنشستند
بر قصر قدم نوبت لولاک زدند
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

