Toggle stanza 1
زان پیش که نُه خیمهٔ افلاک زدند
1

زان پیش که نُه خیمهٔ افلاک زدند

وین خیمه به گرد تودهٔ خاک زدند

2

در عالم جان برابرش بنشستند

بر قصر قدم نوبت لولاک زدند

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…