شمارهٔ 12
Toggle stanza 1دل را که هزار باره در خون کشمش
11
دل را که هزار باره در خون کشمش
وقت است که در خطهٔ بیچون کشمش
22
وان شاهدِ پردگی که جان دارد نام
مویش گیرم ز پرده بیرون کشمش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

