Toggle stanza 1
دل را که هزار باره در خون کشمش
1

دل را که هزار باره در خون کشمش

وقت است که در خطهٔ بیچون کشمش

2

وان شاهدِ پردگی که جان دارد نام

مویش گیرم ز پرده بیرون کشمش

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…