شمارهٔ 6
Toggle stanza 1ای مرد رونده مرد بیچاره مباش
11
ای مرد رونده مرد بیچاره مباش
از خویش مرو برون وآواره مباش
22
در باطن خویش کن سفر چون مردان
اهل نظری تو اهل نظّاره مباش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

