شمارهٔ 20
Toggle stanza 1زهرم آید شکرستان بی لبِ تو
11
زهرم آید شکرستان بی لبِ تو
بگرفت مرا دل از جهان بی لبِ تو
22
گفتی که تو زود از لب من سیر شوی
بس سیر شدم بُتا ز جان بی لبِ تو
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

