شمارهٔ 8
Toggle stanza 1شمع آمد و گفت: از تنِ سرکشِ خویش
11
شمع آمد و گفت: از تنِ سرکشِ خویش
سر میبینم فکنده در مفرشِ خویش
22
هرچند که در مشمّعم پیچیده
هم غرقه شوم در آب از آتشِ خویش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

