شمارهٔ 59
Toggle stanza 1عمری دل من غرقهٔ خون آمده بود
11
عمری دل من غرقهٔ خون آمده بود
بر درگه عشق سرنگون آمده بود
22
از بس که زد این در وکسش درنگشاد
او بود که از برون درون آمده بود
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

