شمارهٔ 5
Toggle stanza 1گفتم: ز خط تو بوی خون میآید
11
گفتم: ز خط تو بوی خون میآید
وز خطّ تو عقل در جنون میآید
22
گفتا که خط از برای زر میآرم
گفتم که زر از سنگ برون میآید
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

