Toggle stanza 1
گاهی به قبولِ خلق خواهی آویخت
1

گاهی به قبولِ خلق خواهی آویخت

گاهی به عصا و دلق خواهی آویخت

2

از بهرِ شکم روز و شبان در تک و پوی

خود را به گلو و حلق خواهی آویخت

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…