شمارهٔ 21
Toggle stanza 1در فرع کجا مشبّهی افتاده است
11
در فرع کجا مشبّهی افتاده است
افلاک ز یکدگر فرو آسایند
22
چون در نگری حقّه تهی افتاده است
یک ره همه از سفر فروآسایند
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

