Toggle stanza 1
در فرع کجا مشبّهی افتاده است
1

در فرع کجا مشبّهی افتاده است

افلاک ز یکدگر فرو آسایند

2

چون در نگری حقّه تهی افتاده است

یک ره همه از سفر فروآسایند

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…