شمارهٔ 63
Toggle stanza 1هر دم ز تو درد بیشتر خواهم برد
11
هر دم ز تو درد بیشتر خواهم برد
هر لحظه مصیبتی دگر خواهم برد
22
چون نیست به جشن وصل تو راه مرا
در ماتم خود عمر بسر خواهم برد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

