Toggle stanza 1
هر دم ز تو درد بیشتر خواهم برد
1

هر دم ز تو درد بیشتر خواهم برد

هر لحظه مصیبتی دگر خواهم برد

2

چون نیست به جشن وصل تو راه مرا

در ماتم خود عمر بسر خواهم برد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…