شمارهٔ 11
Toggle stanza 1بی روی تو مه راهِ تماشا نگرفت
11
بی روی تو مه راهِ تماشا نگرفت
بی زلف تو شب پردهٔ سودا نگرفت
22
گر سرو همه جهان به آزادی خورد
بی قدِ تو کارِ سرو بالا نگرفت
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

