شمارهٔ 33
Toggle stanza 1میآمد و بر زلف شکن میانداخت
11
میآمد و بر زلف شکن میانداخت
ناخورده شراب، خویشتن میانداخت
22
پنهان ز رقیبی که همه زهر نمود
از لب شکری به سوی من میانداخت
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

