Toggle stanza 1
می‌آمد و بر زلف شکن می‌انداخت
1

می‌آمد و بر زلف شکن می‌انداخت

ناخورده شراب، خویشتن می‌انداخت

2

پنهان ز رقیبی که همه زهر نمود

از لب شکری به سوی من می‌انداخت

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…