Toggle stanza 1
در عالم عشق محو و ناچیز شدیم
1

در عالم عشق محو و ناچیز شدیم

بالای مقام عقل و تمییز شدیم

2

گویی هر دم ز عالمی صد چندین

بگذاشته و اهل عالمی نیز شدیم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…