Toggle stanza 1
ای بس که دل تو بیم دارد در پیش
1

ای بس که دل تو بیم دارد در پیش

ز آنست که دل دو نیم دارد در پیش

2

چندین به وجودِ اندک تن بمناز

چون جان عدمِ عظیم دارد در پیش

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…