شمارهٔ 25
Toggle stanza 1ای بس که دل تو بیم دارد در پیش
11
ای بس که دل تو بیم دارد در پیش
ز آنست که دل دو نیم دارد در پیش
22
چندین به وجودِ اندک تن بمناز
چون جان عدمِ عظیم دارد در پیش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

