شمارهٔ 60
Toggle stanza 1چون چشمِ تو تیرِ غمزه محکم انداخت
11
چون چشمِ تو تیرِ غمزه محکم انداخت
هر لحظه هزار صید بر هم انداخت
22
چون زلف تو سر بستگی آغاز نهاد
سرگشتگیی در همه عالم انداخت
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

