Toggle stanza 1
گفتم که «هزار رونق افزون گیری
1

گفتم که «هزار رونق افزون گیری

گر تو کم یک شکر هم اکنون گیری»

2

گفتا: «شکر از لبم گرفتی بیرون»

یا رب که چگونه جست بیرون گیری

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…