شمارهٔ 31
Toggle stanza 1گفتم که «هزار رونق افزون گیری
11
گفتم که «هزار رونق افزون گیری
گر تو کم یک شکر هم اکنون گیری»
22
گفتا: «شکر از لبم گرفتی بیرون»
یا رب که چگونه جست بیرون گیری
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

