شمارهٔ 1
Toggle stanza 1از بس که امید و بیم میبینم من
11
از بس که امید و بیم میبینم من
از هر دو دلی دو نیم میبینم من
22
چندان که به سِرِّ کار در مینگرم
استغنائی عظیم میبینم من
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

