شمارهٔ 17
Toggle stanza 1آن بهٔ که زخود کرانه بینی خود را
11
آن بهٔ که زخود کرانه بینی خود را
تا محرم این ستانه بینی خود را
22
گر هر دو جهان به طبع تو خاک شوند
کفرست که در میانه بینی خود را
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

