Toggle stanza 1
آنجا که فروغ عالم جان بینی
1

آنجا که فروغ عالم جان بینی

خورشید و قمر را اثری زان بینی

2

در عالم جان چو قدسیان خوان بنهند

طاووس فلک را مگس خوان بینی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…