شمارهٔ 13
Toggle stanza 1در عشق دلی خراب چتواند کرد
11
در عشق دلی خراب چتواند کرد
بیخویشتنی صواب چتواند کرد
22
انصاف بده که ذرهای سایهٔ محض
در پرتو آفتاب چتواند کرد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

