شمارهٔ 12
Toggle stanza 1تا خط تو پشت بر قمر آوردست
11
تا خط تو پشت بر قمر آوردست
عقل از دل من روی به درآوردست
22
طوطی خط زمردینت بر لعل
خطّی است که بر تنگ شکر آوردست
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

