Toggle stanza 1
تا خط تو پشت بر قمر آوردست
1

تا خط تو پشت بر قمر آوردست

عقل از دل من روی به درآوردست

2

طوطی خط زمردینت بر لعل

خطّی است که بر تنگ شکر آوردست

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…