شمارهٔ 86
Toggle stanza 1چون نیست زمانی سر خویشم بی تو
11
چون نیست زمانی سر خویشم بی تو
کاری است گرفته پس و پیشم بی تو
22
جمعیت جانم نشود مویی کم
هر چند که در تفرقه بیشم بی تو
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

