Toggle stanza 1
چون نیست زمانی سر خویشم بی تو
1

چون نیست زمانی سر خویشم بی تو

کاری است گرفته پس و پیشم بی تو

2

جمعیت جانم نشود مویی کم

هر چند که در تفرقه بیشم بی تو

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…