شمارهٔ 9
Toggle stanza 1دل چون دل من غم زده نتواند بود
11
دل چون دل من غم زده نتواند بود
صد واقعه بر هم زده نتواند بود
22
تا شربت عالم نشود خونابه
قوت من ماتم زده نتواند بود
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

