شمارهٔ 6
Toggle stanza 1ای روح! درین عالم غربت چونی
11
ای روح! درین عالم غربت چونی
بیآنهمه پایگاه و رتبت چونی
22
سلطانِ جهانِ قدس بودی، اکنون
در صحبتِ نفس شوم صحبت چونی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

