Toggle stanza 1
مرگ است خلاص عالم فانی را
1

مرگ است خلاص عالم فانی را

درهم چه کشی ز مرگ پیشانی را

2

گر مزبلهٔ تن تو را مرگ رسید

با مرگ چکار جان تو با جانی را

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…