شمارهٔ 41
Toggle stanza 1مرگ است خلاص عالم فانی را
11
مرگ است خلاص عالم فانی را
درهم چه کشی ز مرگ پیشانی را
22
گر مزبلهٔ تن تو را مرگ رسید
با مرگ چکار جان تو با جانی را
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

