شمارهٔ 17
Toggle stanza 1سهل است اگر کار مرا ساز دهی
11
سهل است اگر کار مرا ساز دهی
گاهم بنوازی و گه آواز دهی
22
چون عاشق دل شکسته را دل بردی
چه کم شود ازتو گر دلش باز دهی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

