شمارهٔ 18
شاعر: عطار
Toggle stanza 1جان شیفتهٔ الست میپنداری
11
جان شیفتهٔ الست میپنداری
و اندیشهٔ ما بهانهای بیش نبود
22
آنست که خویش، هست میپنداری
قصّه چه کنم، نشانهای بیش نبود
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

