Toggle stanza 1
جان شیفتهٔ الست می‌پنداری
1

جان شیفتهٔ الست می‌پنداری

و اندیشهٔ ما بهانه‌ای بیش نبود

2

آنست که خویش، هست می‌پنداری

قصّه چه کنم، نشانه‌ای بیش نبود

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…