شمارهٔ 2
Toggle stanza 1ماهی که چو برق کم بقا آمده بود
11
ماهی که چو برق کم بقا آمده بود
چون رفت چنین زود چرا آمده بود
22
هر کس گوید کجا شد آن دُرِّ یتیم
من میگویم خود ز کجاآمده بود
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

