شمارهٔ 19
Toggle stanza 1گر مملکت درد مسلم بکنم
11
گر مملکت درد مسلم بکنم
هر لحظه تماشای دو عالم بکنم
22
خواهم که هر آن ذرّه که در عالم هست
من بر هر یک هزار ماتم بکنم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

