Toggle stanza 1
ای بس که فلک در صف انجم گردد
1

ای بس که فلک در صف انجم گردد

تا یک مردم تمام مردم گردد

2

جان تو کبوتریست پرّیده ز عرش

هرگاه که هادی نشود گم گردد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…