شمارهٔ 37
Toggle stanza 1هم شیوهٔ سودای تو نتوان دانست
11
هم شیوهٔ سودای تو نتوان دانست
هم وعدهٔ فردای تو نتوان دانست
22
میباید بود تا ابد بی سر و پا
چون ره به سر و پای تو نتوان دانست
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

