شمارهٔ 14
Toggle stanza 1رفتی و مرا خار شکستی در دل
11
رفتی و مرا خار شکستی در دل
در دیدهنیی اگرچه هستی در دل
22
بر خاک تو برخاست دل پرخونم
کز دیده برفتی و نشستی در دل
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

