شمارهٔ 28
Toggle stanza 1بنشستهای و بسی سفر داری تو
11
بنشستهای و بسی سفر داری تو
هر ذرّه که هست ره گذر داری تو
22
صد قافله در هر نفسی میگذرد
ای بیخبر آخر چه خبر داری تو
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

