Toggle stanza 1
بنشسته‌ای و بسی سفر داری تو
1

بنشسته‌ای و بسی سفر داری تو

هر ذرّه که هست ره گذر داری تو

2

صد قافله در هر نفسی می‌گذرد

ای بی‌خبر آخر چه خبر داری تو

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…