شمارهٔ 37
Toggle stanza 1گر بودِ خود از عشق نبودی بینی
11
گر بودِ خود از عشق نبودی بینی
از آتش او هنوز دردی بینی
22
ور عمر زیان کنی ز سرمایهٔ عشق
بینی که ازین زیان چه سودی بینی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

