Toggle stanza 1
گر بودِ خود از عشق نبودی بینی
1

گر بودِ خود از عشق نبودی بینی

از آتش او هنوز دردی بینی

2

ور عمر زیان کنی ز سرمایهٔ عشق

بینی که ازین زیان چه سودی بینی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…