شمارهٔ 33
Toggle stanza 1هرچند که دریای پرآب آمد پیش
11
هرچند که دریای پرآب آمد پیش
بشتاب که کار با شتاب آمد پیش
22
گر غرقه شدی چه سود؟ کاندر همه عمر
بیدار کنون شدی که خواب آمد پیش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

