شمارهٔ 2
Toggle stanza 1چون دیده به روی تو نظر بگشاید
11
چون دیده به روی تو نظر بگشاید
از هر مژهای خون جگر بگشاید
22
در صد گرهام ز زلف خم در خمِ تو
تا پسته به یک تنگ شکر بگشاید
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

