شمارهٔ 9
Toggle stanza 1ای عشق توام کار به جان آورده
11
ای عشق توام کار به جان آورده
سودای توام موی کشان آورده
22
وردی که به سالها کسی یاد نداشت
عشقِ کمرِ تو با میان آورده
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

