Toggle stanza 1
ای شمع! تویی علی الیقین دشمنِ تو
1

ای شمع! تویی علی الیقین دشمنِ تو

خود را کشتی خون تو در گردنِ تو

2

با آتش سوزنده گرفتی سرِخویش

تا چند زسرگرفتگی کردنِ تو

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…