شمارهٔ 83
Toggle stanza 1ای شمع! تویی علی الیقین دشمنِ تو
11
ای شمع! تویی علی الیقین دشمنِ تو
خود را کشتی خون تو در گردنِ تو
22
با آتش سوزنده گرفتی سرِخویش
تا چند زسرگرفتگی کردنِ تو
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

