شمارهٔ 32
Toggle stanza 1دعوی وجود از سر مستی شوم است
11
دعوی وجود از سر مستی شوم است
از عین عدم خویش پرستی شوم است
22
پیش و پس سایه آفتابست مدام
گر سایه نفس زند ز هستی شوم است
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

