Toggle stanza 1
دعوی وجود از سر مستی شوم است
1

دعوی وجود از سر مستی شوم است

از عین عدم خویش پرستی شوم است

2

پیش و پس سایه آفتابست مدام

گر سایه نفس زند ز هستی شوم است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…