شمارهٔ 13
Toggle stanza 1هم راه تن و هم ره جان او گیرد
11
هم راه تن و هم ره جان او گیرد
هر ذره که هست در میان او گیرد
22
از خویش چو در هستی او گم گردی
پیش نظرت همه جهان او گیرد
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

