Toggle stanza 1
از بس که غم دنیی مردار خوری
1

از بس که غم دنیی مردار خوری

نه کار کنی و نه غم کار خوری

2

سرمایهٔ تو در همه عالم، عمری‌ست

بر باد مده! که غصّه بسیار خوری

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…