شمارهٔ 31
Toggle stanza 1از بس که غم دنیی مردار خوری
11
از بس که غم دنیی مردار خوری
نه کار کنی و نه غم کار خوری
22
سرمایهٔ تو در همه عالم، عمریست
بر باد مده! که غصّه بسیار خوری
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

