Toggle stanza 1
تن از دو جهان بس که حجابی برداشت
1

تن از دو جهان بس که حجابی برداشت

اُمّی شد و دل ز هر کتابی برداشت

2

چون مرگ ملازمست از هرچه که هست

مینتوانم هیچ حسابی برداشت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…