شمارهٔ 27
Toggle stanza 1تن از دو جهان بس که حجابی برداشت
11
تن از دو جهان بس که حجابی برداشت
اُمّی شد و دل ز هر کتابی برداشت
22
چون مرگ ملازمست از هرچه که هست
مینتوانم هیچ حسابی برداشت
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

