شمارهٔ 23
Toggle stanza 1تا رخت وجودت به عدم در نکشند
11
تا رخت وجودت به عدم در نکشند
هر کار که کرده شد بهم درنکشند
22
سر بر خط لوح ازلی دار و خموش
کز هر چه قلم رفت قلم در نکشند
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

