شمارهٔ 77
Toggle stanza 1شمع از در جمع چون درآمد حالی
11
شمع از در جمع چون درآمد حالی
گفتم که تُرا کار برآمد حالی
22
گر آتش سوزنده در افتاد به تو
شکر ایزد را کان به سرآمد حالی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

