Toggle stanza 1
ای شمع! مگر چنان گمانْت افتادست
1

ای شمع! مگر چنان گمانْت افتادست

کاتش ز زبان در دل و جانْت افتادست

2

هر دم گویی در دلم آتش افتاد

این چه سخنی است کز زبانْت افتادست

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…