شمارهٔ 87
Toggle stanza 1ای شمع! مگر چنان گمانْت افتادست
11
ای شمع! مگر چنان گمانْت افتادست
کاتش ز زبان در دل و جانْت افتادست
22
هر دم گویی در دلم آتش افتاد
این چه سخنی است کز زبانْت افتادست
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

