شمارهٔ 55
Toggle stanza 1در عشق نشان و خبر من برسید
11
در عشق نشان و خبر من برسید
وز گریهٔ خونین جگر من برسید
22
چندان بدویدم که تک من بنماند
چندان بپریدم که پر من برسید
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

