Toggle stanza 1
تن را که در آتش عذاب افتاده است
1

تن را که در آتش عذاب افتاده است

بر رشتهٔ جان هزار تاب افتاده است

2

دل را که به سالها عمارت کردم

اکنون ز می عشق، خراب افتاده است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…