شمارهٔ 33
Toggle stanza 1تن را که در آتش عذاب افتاده است
11
تن را که در آتش عذاب افتاده است
بر رشتهٔ جان هزار تاب افتاده است
22
دل را که به سالها عمارت کردم
اکنون ز می عشق، خراب افتاده است
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

