شمارهٔ 12
Toggle stanza 1دردا که دلم واقف آن راز نشد
11
دردا که دلم واقف آن راز نشد
جان نیز دمی محرمِ دمساز نشد
22
چه غصّه بود ورای آن در دو جهان
کاین چشم فراز گشت و آن باز نشد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

