Toggle stanza 1
شمع آمد و گفت: در دلم خونم سوخت
1

شمع آمد و گفت: در دلم خونم سوخت

کاتش همه شب درون و بیرونم سوخت

2

این طرفه که آتشی که در سر دارم

چون آب ز سرگذشت افزونم سوخت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…