شمارهٔ 13
Toggle stanza 1شمع آمد و گفت: در دلم خونم سوخت
11
شمع آمد و گفت: در دلم خونم سوخت
کاتش همه شب درون و بیرونم سوخت
22
این طرفه که آتشی که در سر دارم
چون آب ز سرگذشت افزونم سوخت
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

