Toggle stanza 1
نه چارهٔ این عاشق بیچاره کنی
1

نه چارهٔ این عاشق بیچاره کنی

نه غمخوری این دل غمخواره کنی

2

گیرم که ز پرده مینیایی بیرون

این پردهٔ عاشقان چرا پاره کنی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…